شام میں باغیوں کی سرگرمیوں کے سامنے ڈٹی ہوئی بشار الاسد حکومت کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے سے باغیوں اور ان کے سرپرستوں کو سبکی اٹھانا پڑی ہے اور دنیا بھر میں باغیوں کے سرپرست رسوا ہوئے ہیں۔ امریکی استعمار نے بشار الاسد کو ایران کیساتھ دوستی کی سزا دینے کے لئے وہاں بغاوت پھیلائی اور اس میں براہ راست ملوث ہونے کے بجائے اس نے شام کے ہمسایہ مسلمان ممالک کو استعمال کیا۔ اس حوالے سے راقم نے انہیں صفحات پر دو ماہ قبل لکھا تھا کہ شام میں امریکی سی آئی اے قطر، سعودی عرب اور ترکی کی مدد سے بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں اور وہاں بیرون ملک سے جنگجو بھیجے جا رہے ہیں، جو وہاں کی حکومت کے خلاف خانہ جنگی کی فضا بنائے ہوئے ہیں۔ اس میں عالمی سطح پر بشار الاسد پر دباؤ ڈالا کیا گیا کہ شامی عوام انہیں پسند نہیں کرتے، اس لئے وہ اقتدار چھوڑ دیں، لیکن شامی حکمرانوں نے ثابت قدمی دکھائی اور شام میں بدامنی پھیلانے والے اندرونی و بیرونی عناصر کو پسپا کر دیا۔بی بی سی کے مطابق شام میں اپنا ’’حصہ‘‘ ڈالنے کیلئے پاکستان سے بھی ’’دستہ‘‘ بھیجا گیا تھا، جو وہاں سے ’’بڑے بے آبرو‘‘ ہو کر نکل آیا۔ اس کے بعد مرکزی کردار جن میں سعودی عرب، قطر اور ترکی شامل ہیں، ان کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے خود بے نقاب کر دیا۔ امریکیوں کی پالیسی بھی عجیب ہوتی ہے، پہلے استعمال کرتے ہیں بعد میں اپنے اخبارات میں خود ہی خبریں چلوا کر اپنے ’’دوستوں‘‘ کو رسوا بھی کر دیتے ہیں۔ یہی کچھ سعودی عرب، قطر اور ترکی کیساتھ ہوا ہے۔ امریکہ نے وہ شکست کی کالک اپنے منہ پر ملنے کے بجائے نیو یارک ٹائمز میں ان کی اصلیت سے پردہ ہٹا کر ان کے منہ پر مل دی۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں ان تینوں ممالک کے امریکہ پر احسان کا بدلہ کچھ یوں چکایا ہے کہ ان تینوں ملکوں کو ان کے عوام کی نظروں میں رسوا کر دیا ہے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مسلمان ملک ہونے کے باوجود ہمارے حکمران اپنے ہی بےگناہ مسلمان بھائیوں کا قتل عام کیوں کر رہے ہیں۔ امریکہ نے اس ساری بدنامی کو اپنے ان تینوں ’’دوستوں‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کی سی آئی اے نے حالیہ مہینوں کے دوران شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے میں ترکی اور بعض عرب ممالک کی مدد کی ہے۔ اخبار نے فضائی ٹریفک کا ڈیٹا، حکومتی عہدیداروں کے انٹرویوز اور باغی کمانڈروں کے بیانات بھی اپنی رپورٹ میں شامل کئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی ساز و سامان اردن، سعودی عرب اور قطر کے مال بردار طیاروں کے ذریعے 160 پروازوں میں بھیجا گیا۔ فوجی طرز کے مال بردار طیارے انقرہ کے نزدیک واقع آئزن بو گا ائیرپورٹ کے علاوہ ترکی کے دیگر ائیر پورٹس پر سے جاتے رہے۔ اخبار کے مطابق سی آئی اے ایجنٹوں نے عرب ممالک کو اسلحہ کی خریداری میں مدد فراہم کی اور کروشیا سے بھاری مقدار میں اسلحہ خریدا گیا۔ امریکہ پہلے تو کہتا رہا کہ شام میں ہونے والے بغاوت خود شامی عوام کر رہے ہیں، لیکن جب حقائق منظر عام پر آگئے ہیں تو دنیا کو امریکہ کی حقیقت کا ادراک کر لینا چاہئے۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس افسروں نے باغی گروپوں کا تعین کیا تھا کہ اسلحہ ان کو دیا جانا چاہئے، جبکہ ترکی نے اس سارے پروگرام کی نگرانی کی۔ دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ نے اپنا دامن بچانے کی ناکام کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ شام میں لڑنے والے ہمارے شہریوں کو واپس وطن آنے پر گرفتار کر لیا جائے گا۔ میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ شامی بحران میں مداخلت سعودی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرے گی جو شامی لڑائی میں شریک ہونے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کا یہ اقدام اپنا دامن صاف دکھانے کی ناکام کوشش ہے، کیونکہ سعودی عرب میں نجی سطح پر کوئی ایسی عسکری فورس موجود نہیں جو کہیں جا کر لڑائی کرسکے۔ شام میں جا کر لڑنے والے سعودی شہریوں کو ریاض حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وزیر داخلہ کا یہ بیان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔جیسا کہ پاکستان سے جانیو الے ’’مجاہدین‘‘ اپنی مدد آپ کے تحت نہیں گئے، بلکہ ان کو بھی شام پہنچانے میں ہمارے ہی ’’حکام‘‘ کا ہاتھ ہے، اسی طرح دیگر ممالک کے شہری بھی خود نہیں آئے اور نہ کسی ’’مفتی اعظم‘‘ نے فتویٰ صادر کیا تھا کہ شام میں عوام کی مدد کے لئے مسلم اُمہ پر جہاد فرض ہوچکا ہے۔ لہذا پوری مسلم اُمہ اپنے شامی بھائیوں کی مدد کو پہنچے۔ ایسے کسی فتویٰ کے بغیر کسی دوسرے ملک میں جانا اور وہاں لڑائی میں حصہ لینا اتنا آسان نہیں، جتنا کشمیر کی سرحد عبور کر لینا یا ڈیورنڈ لائن کے پار چلے جانا ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کیلئے حکومتی سطح پر مدد کی ضرورت ہوا کرتی ہے جو فراہم کی گئی۔ بہرحال شامی حکومت کی عظمت کو سلام کہ جنہوں نے مردانہ وار بیرونی مداخلت کا مقابلہ کیا اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ کاش ہمارے حکمران امریکہ کے آلہ کار بننے کے بجائے اُمت مسلمہ کے درد کا ادراک کرتے اور مسلمانوں کے دکھ درد بانٹتے، ان کے لئے دکھ کا باعث نہ بنتے۔تجزیہ نگار: تصور حسین شہزاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
27 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 403766
امریکیوں کی پالیسی بھی عجیب ہوتی ہے، پہلے استعمال کرتے ہیں بعد میں اپنے اخبارات میں خود ہی خبریں چلوا کر اپنے ’’دوستوں‘‘ کو رسوا بھی کر دیتے ہیں۔ یہی کچھ سعودی عرب، قطر اور ترکی کیساتھ ہوا ہے۔ امریکہ نے وہ شکست کی کالک اپنے منہ پر ملنے کے بجائے نیو یارک ٹائمز میں ان کی اصلیت سے پردہ ہٹا کر ان کے منہ پر مل دی۔